288

اسرائیل کی شام میں فضائی حملوں کے بعد ایران کو تنبیہ

اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کا ملک ’کسی بھی حملے کے خلاف‘ اپنا دفاع کرے گا۔

بنیامین نیتن ہایو نے سنیچر کو کہا کہ ’یہ ہمارا حق اور ذمہ داری ہے اور ہم ایسا کرتے رہیں گے جہاں تک ضروری ہوا۔‘

اسرائیل نے شام میں ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا جسے گذشتہ 30 برس کے دوران اسرائیل کی جانب سے سب سے بڑا فضائی حملہ کہا جا رہا ہے۔

شام میں ایرانی موجودگی اسرائیل کے لیے باعث تشویش ہے۔


وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ ’ہماری خودمختاری کو نقصان پہنچانے کے خلاف‘ اسرائیل کی اپنے دفاع کی پالیسی ’بالکل واضح‘ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایران نے بے شرمی سے اسرائیل کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’انھوں نے شام کی حدود سے ایرانی ڈرون اسرائیل میں بھیجا، اسرائیل اس کے لیے ایران اور شام کو اس کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔‘

اس سے قبل اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس نے شام میں گذشتہ 30 برس کے دوران سے بڑا فضائی حملہ کیا۔

اسرائیلی دفاعی فوج کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ شامی دارالحکومت دمشق کے قریب کم سے کم 12 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

یہ سنہ 1982 کی لبنان جنگ کے بعد شام کے خلاف اپنی نوعیت کی پہلی بڑی کارروائی ہے۔

دوسری جانب امریکہ اور روس نے شام میں ایران کی حامی فورسز کے خلاف اسرائیل کی سرحد پار سے کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

روس کا کہنا تھا کہ ایسے کسی بھی اقدام سے پرہیز کرنا چاہیے جو ایک نئے علاقائی تنازع کا باعث بنے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے فون پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہوں نے بات کی اور شام میں فضائی حملوں پر تبادلۂ خیال کیا۔

خیال رہے کہ اسرائیل کے مطابق اس کے ایک ایف 16 طیارے کو شام کی سرزمین سے طیارہ گرانے والی توپوں سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں جہاز گر گیا تھا۔


’اسرائیلی جارحیت‘


اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘ایک جنگی ہیلی کاپٹر نے ایک ایرانی ڈرون کو نشانہ بنایا جسے شام سے چھوڑا گیا تھا اور وہ اسرائیلی حدود میں داخل ہو گیا تھا۔’

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس ڈرون کو جلد ہی شناخت کر لیا گیا اور ‘اس کے جواب میں اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے شام کے اندر ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا۔‘

شام کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاع نے ہفتے کو شامی فوجی اڈے کے خلاف اسرائیل کی طرف سے ’جارحیت‘ کے بعد فائر کیے۔ اس نے کہا کہ اس نے ایک سے زیادہ جہازوں کو نشانہ بنایا۔

ایران شام کے اندر کیا کر رہا ہے؟


ایران اور روس شامی صدر بشار الاسد کے اہم حمایتی ہیں اور وہ انھیں باغیوں کے خلاف لڑنے میں مدد دے رہے ہیں۔

گذشتہ نومبر میں مغربی انٹیلی جنس ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ تہران شام میں مستقل فوجی اڈا بنا رہا ہے۔ اس کے جواب میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے خبردار کیا تھا کہ ’اسرائیل ایسا نہیں ہونے دے گا۔‘

ایران پر الزام ہے کہ وہ پورے خطے میں اپنا اثر و نفوذ چاہتا ہے۔

بی بی سی کے مشرقِ وسطیٰ کے نامہ نگار ٹام بیٹمین کہتے ہیں کہ اسرائیل کے شام میں فضائی حملے کوئی نئی بات نہیں ہے، تاہم شام کی طرف سے کسی اسرائیلی جہاز کو مار گرانے سے جنگ کے شعلوں کو مزید ہوا ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں