189

باغات کی تصاویر کے بین الاقوامی مقابلے کی انعام یافتہ تصاویر برائے سال 2018

برازیل کے وسیع ماحولیاتی خطے سیریڈو میں کی تصویر کو باغات کی تصاویر کے بین الاقوامی مقابلہ برائے سال 2018 میں اول انعام دیا گیا۔

یہ انعام برازیلیا کے مارسی او کیبرال نےحاصل کیا۔


آئی جی او ٹی وائی کے مینیجنگ ڈائریکٹر ٹائرون میک گلنچی کا کہنا تھا: ’مارسی او نے سریڈو میں شاندار منظر عکس بند کیا۔ جس میں پیپالینتھس چکوی ٹینسس کے پھولوں کوں سورج کی پہلی کرن کے ساتھ کھلتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔‘

دنیا بھر کے باغات اور قدرتی مناظر کو اس مقابلے میں شامل کیا جاتا ہے جس میں قدرت کا ہر موسم جھلکتا ہو۔ ان میں چین میں چاولوں کے سنہرے کھیتوں سے لے کر آسٹریا کے پھولوں کی خوشبو سے لطف اندوز ہوتے چوہے کی تصاویر بھی شامل ہیں۔

دیکھیے کچھ انعام یافتہ تصاویر:

مارک بیوُر نے جامنی پھولوں کی یہ تصویر جنوبی انگلستان ڈورسیٹ میں نیشنل ہیلتھ اینڈ نیچر ریزرو میں بنائی

اینی گرین ایرمیٹیج میں یہ ہابٹ دروازہ دریافت کیا اسے ’دی مون گیٹ یا چاند دروازہ قرار دیا۔ یہ تصویر جرمنی کے علاقے بواریا میں بنائی گئی

چین کے صوبے سنکیانگ میں پہاڑی علاقے میں موجود چاولوں کے یہ سنہرے کھیت شاؤفینگ ژانگ کے کیمرے نے عکس بند کیے

یی فان نے چین کے علاقے یونان میں خطرے کا شکار اس جڑی کی تصویر بنائی جس کے طبی فوائد بھی ہیں

شمالی آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے فوٹو گرافر سٹیو لوری نے لکڑی کی ایک تعمیر کی تصویر بنانے کے لیے پولارائزڈ روشنی کا استعمال کیا

انٹلی کے علاقے پائڈمونٹ میں بنائی گئی ماؤرو ٹرونٹو کی اس تصویر کی بہت زیادہ پذیرائی کی گئی

ویانا میں ایک جنگلی چوہا پھول کی خوشبو سے لطف اندوز ہو رہا ہے، یہ تصویر ہینرک سپرنز نے بنائی

لگسمبرگ میں نیو کاسل آف اینسمبرگ کے برف میں منجمد اس منظر کو میریانے میجرس نے تصویر میں قید کیا

کیتھرن بیلڈک نے تجریدی تصاویر کے زمرے میں کنول کے پتوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر ان کی خوبصورتی اور پیچیدگی کو عکس بند کیا

فرانٹیسز ریروچا کو خشک پھولوں کی اس عکس بندی پر داد ملی

ویلیئم ڈورے نے سکاٹ لینڈ میں الگ کھڑے درختوں کے اس گروہ کی تصویر بنائی

ماسومی شیوہارا کی بنائی آلو بخارے کی اس تصویر کو بھی سراہا گیا

کلے بولٹ نے تصاویر کے ایک سلسلے کی مدد سے شمالی امریکہ میں شہد کی مکھوں کو آلودگی کے باعث درپیش مسائل کو اجاگر کیا
بین الاقوامی تصاویر کے سال 2019 کے مقابلے کے لیے تصاویر 20 فروری تک بھجوائی جا رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں