251

مردہ جسم میں روح پھونکنے کا ناکام تجربہ

دینی سیاسی جماعتوں کے قائدین نے ملک میں متحدہ مجلس عمل کی بحالی اور اسے از سرِ نو فعال بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے محرکات و مضمرات کیا ہیں، یہ تو ان جماعتوں کی قیادتیں ہی جانیں ، ہمارے لئے تو اچنبھے کی بات یہ ہے کہ اس اتحاد کی دو بڑی جماعتیں ماضی قریب تک اس موضوع پر سنجیدگی سے غورو فکر کے لئے مل بیٹھنے پر بھی تیار نہ تھیں۔ مزید ستم ظریفی یہ کہ ان میں سے ایک جماعت مرکز میں برسرِ اقتدار پارٹی ن لیگ کی حلیف بھی ہے اور شریکِ اقتدار بھی، اس طرح دوسری بڑی جماعت صوبہ خیبر پختون خوا میں ن لیگ کی دشمن تحریکِ انصاف کی حلیف اور شریکِ اقتدار ۔ اب کہتے ہیں کہ ان دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے حلیفوں کو ’’ طلاق‘‘ دے کر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب یہ آئندہ انتخابات متحدہ مجلسِ عمل کے تحت ہی لڑیں گے۔
ہمیں دینی سیاسی جماعتوں کی قیادتوں کے اس فیصلے پر سامری کا وہ بچھڑا یا د آگیا جسے قرآنِ مجید میں ’’جَسَدًا لَہٗ خوارٌ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ کیا ایم ایم اے کی بحالی کا فیصلہ اس کے مردہ جسم میں روح پھونک پائے گا؟ اس کا فیصلہ تو آئندہ چند ماہ میں ہو جائے گا۔ بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ یہ سامری کے بچھڑے سے بڑھ کر کچھ نہ ہو گا۔ شائد 500کی بجائے ایک ہزار ووٹ یا شائد خیبر پختون خوا میں دوچار نشستوں پر مزید ہاتھ پڑنے کی آس توانا ہو جائے۔
ایم ایم اے کا سنہری دور، بحیثیتِ کارکردگی نہیں ، بطور تعدادِ ارکان قومی و صوبائی اسمبلی ،گزر چکا۔ اب اس کی واپسی کا خواب دیکھنا شائد ’’ محال است و جنوں‘‘ ہی ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں