101

‘زلمی کے پاس اکمل ہے تو ہمارے پاس بھی رونچی ہے’

اسلام آباد یونائیٹڈ کے ڈائریکٹر اور مینٹور وقاریونس ٹیم کے قائم مقام کپتان جین پال ڈومینی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں— فوٹو: ذیشان احمد
اسلام آباد یونائیٹڈ کے ڈائریکٹر اور مینٹور وقاریونس ٹیم کے قائم مقام کپتان جین پال ڈومینی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں— فوٹو: ذیشان احمد

پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے ڈائریکٹر اور مینٹور وقاریونس نے ملک میں عالمی کرکٹ کی واپسی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پشاور زلمی کے خلاف فائنل جیتنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کا فائنل کل دفاعی چیمپیئن پشاور زلمی اور پہلے ایڈیشن کی چیمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان کھیلا جائے گا اور دونوں ٹیموں نے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں بھرپور پریکٹس کی۔

میچ پریکٹس کے بعد اسلام آباد یونائیٹڈ کے قائم مقام کپتان جین پال ڈومینی نے ٹیم کے ڈائریکٹر وقار یونس کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فائنل میں ہم پہلی بار نیشنل اسٹیڈیم میں کھیل رہے ہیں لہٰذا اسٹیڈیم اور وکٹ کا جائزہ لیں گے کہ ہمیں کس طرز کی کرکٹ کھیلنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلاشبہ پشاور زلمی بھی مکمل فارم میں ہے لیکن ہم ان کی ٹیم کی خامیوں کو جانچیں گے اور کل کا میچ جیتنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

اس موقع پر وقار یونس نے کہا کہ پی ایس ایل کا پاکستان میں آنا خوش آئند ہے اور ہم اپنی عمدہ کارکردگی کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے فائنل جیت کر چیمپیئن بننے کی کوشش کریں گے۔

کامران اکمل کے حوالے سے سوال پر وقار یونس نے کہا کہ وکٹ کیپر بلے باز ایک عرصے سے ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کر رہے ہیں اور بہت اچھی فارم میں ہیں لہٰذا انہیں بیک اپ کے طور پر ٹیم کے ساتھ رکھا جا سکتا ہے کیونکہ ہم قومی ٹیم کے کپتان کو تو ٹیم سے ہرگز نہیں ہٹا سکتے اور فیلڈر کی حیثیت سے ان کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی۔

انہوں نے کہا کہ کامران اکمل ضرور اچھی فارم میں ہیں لیکن ہمیں پریشانی کی ضرورت نہیں کیونکہ اگر زلمی کے پاس کامران اکمل ہیں تو ہمارے پاس بھی لیوک رونچی ہیں جو بہت اچھی فارم میں ہیں۔

انجری کا شکار ٹیم کے کپتان مصباح الحق کے حوالے سے وقار یونس نے کہا کہ وہ انجرڈ ہیں اور ان کے کھیلنے یا نہ کھیلنے کا فیصلہ کل ہی ہوگا، تاہم فی الحال ان کا کھیلنا مشکل ہی لگ رہا ہے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ حسین طلعت اور آصف علی بہت باصلاحیت کھلاڑی ہیں اور اگر وہ قومی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب رہتے ہیں تو یہ ان دونوں کی بڑی کامیابی ہو گی۔

وکٹ کے بارے میں سوال پر وقار نے کہا کہ نیشنل اسٹیڈیم میں انٹرنیشنل کرکٹ کافی عرصے سے نہیں ہوئی لیکن ڈومیسٹک میں نیشنل اسٹیڈیم میں بڑے اسکور ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وکٹ بہت اچھی ہے اور موسم بھی سازگار ہے جبکہ دبئی اور شارجہ کی طرح نیشنل اسٹیڈیم کی باؤنڈری بھی چھوٹی ہے لہٰذا یہ ہائی اسکورنگ میچ ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں