152

ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فرسودہ ، گھسے پٹے اور بے بنیاد دعوؤں کا تکرار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں جرمن چانسلر اینجلا مرکل کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف فرسودہ ، گھسے پٹے اور بے بنیاد دعوؤں کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فرسودہ اور بے بنیاد دعوؤں کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا اطمینان حاصل کرنا ضروری ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی حاصل نہیں کرپائےگا۔ٹرمپ نے یہ مضحکہ خیز دعوی ایسے وقت میں کیا ہے جب اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے نے بارہا ایران کے ایٹمی پروگرام کے پرامن ہونے کی تائید کی ہے۔امریکا کے متازعہ صدر نے اپنی ہرزہ سرائی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئےتہران کو خطے کی بدامنی کا سب سے زیادہ ذمہ دار قرار دیا اور دعوی کیا کہ ایران دہشت گرد گروہوں کی حمایت کر رہا ہے۔

جرمن چانسلر اینجلا مرکل نے بھی ٹرمپ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے دعوی کیا کہ تہران کے ساتھ ہونے والا ایٹمی معاہدہ، جامع معاہدہ نہیں ہے بلکہ ایٹمی ہتھیاروں تک ایران کی رسائی روکنے کی جانب پہلا قدم ہے۔اینجلا مرکل نے مزید کہا کہ ایران کے علاقائی اثر رسوخ کو روکنے کے لیے جرمنی اور امریکہ کے درمیان مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اس خطے کے خلاف یورپی سعودی سازشوں کو ناکام بنانے میں اسلامی جمہوریہ ایران اہم کردار ادا کر رہا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران، عراق اور شام میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ میں مذکورہ ملکوں کی درخواست پر فوجی مشاورت اور تعاون فراہم کر رہا ہے لہذا ٹرمپ اور مرکل اس پر کیسے خوش ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ھوآ چون یینگ نے ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے کو باقی رکھے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔بیجنگ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ھوآ چون یینگ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک حقائق اور انصاف کی بنیاد پر اس عالمی معاہدے کے تحفظ کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے اور اس کے لیے کسی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا۔

یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج فیڈریکا موگرینی بھی بارہا ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کی ضرورت پر زور دے چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایٹمی معاہدہ ایک کثیر الفریقی عالمی معاہدہ ہے جسے یکطرفہ طور پر نہ تو ختم کیا جاسکتا ہے نہ ہی اس میں کوئی تبدیلی کی جاسکتی ہے۔

ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے رکن ملکوں نے جنوری دوہزار سولہ میں جامع ایٹمی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی پانچ جمع ایک گروپ کے رکن ممالک ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں