52

پاپ کارن سے بنے بہت کارآمد روبوٹ

کورنیل یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے پاپ کارن استعمال کرتے ہوئے ایک بہت دلچسپ روبوٹ بنایا ہے جو انگلی نما ساخت رکھتا ہے۔ اس سادہ روبوٹ سے کسی شے کو گرفت کرنے کا کام لیا جاسکتا ہے۔

یونیورسٹی کے پروفیسر کرسٹین ایچ پیٹرسن اور طالب علم اسٹیون سیرون ایسا سستا روبوٹ بنانا چاہتے تھے جو پھیل سکے، اپنی سختی میں تبدیلی لائے اور اشیا کو تھامنے کا کام کرسکے۔ اس لیے ان کے ذہن میں پاپ کارن کا خیال آیا جو آسانی سے دستیاب ہیں اور مکئی سے پاپ کارن بنتے وقت دس گنا تک پھیل سکتے ہیں۔

ٹیم نے ایسے پاپ کارن کا انتخاب کیا جس میں کوئی کیمیکل شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اس سے قبل انہوں نے مختلف اقسام کی مکئی اور ان سے پھوٹنے والے پاپ کارن پر بھی غور کیا۔ پھر سب سے زیادہ پھیلنے والی مکئی کو روبوٹ سازی میں استعمال کیا گیا۔ ابتدائی طور پر انگلی نما سادہ روبوٹ تیار کیا گیا۔

مکئ کے دانوں کو نائیکروم سے بنے تار پر لگایا گیا۔ جیسے ہی دانوں کو حرارت دی گئی وہ پھوٹ کر پاپ کارن بنے اور انہوں نے نائیکروم کے تار سے بنی انگلیوں پر دباؤ بڑھا کر ایک غبارے کو گرفت میں لے لیا۔ دوسرے تجربے میں مکئی کے 36 دانوں کو سلیکون پر لگایا گیا اور جو سخت ہوکر ایک ٹھوس شکل اختیار کرگیا۔ تیسرے روبوٹ کو مکئی سے ایک خاص شکل دے کر اس سے چار کلوگرام وزن تھامنے کا مظاہرہ کیا گیا۔

سادہ روبوٹ بنانے والی اس ٹیکنالوجی سے چھوٹے جمپنگ روبوٹ بنائے جاسکتے ہیں۔ تاہم پاپ کارن والے روبوٹ صرف ایک مرتبہ ہی استعمال ہوسکتے ہیں۔ لیکن بہت سستے اور فراواں ہونے کی وجہ سے یہ بہت سے کام کرسکتےہیں۔

کورنیل میں انجینئروں کی ٹیم کہتی ہے کہ ان روبوٹس کو بڑی تعداد میں بناکر ان سے بہت سارے کام لیے جاسکتے ہیں۔ یہ خودکار انداز میں ناکام ہوئے بغیر اپنی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ اسی بنا پر پاپ کارن روبوٹ بہت مفید ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں