70

پاکستانی ماہرین نے تربوز کے چھلکے سے آرسینک واٹر فلٹر تیار کرلیا

پاکستانی ماہرین نے تربوز کے چھلکے سے انتہائی کم خرچ واٹر فلٹر تیار کیا ہے جو زیرِ زمین پانی میں سے خطرناک کیمیائی عنصر سنکھیا (آرسینک) کو ختم کردیتا ہے۔

اس وقت دنیا کے 50 ممالک میں لوگ زیرِ زمین پانی پینے پر مجبور ہیں۔ ان میں سنکھیا کی مختلف مقدار پائی جاتی ہے جس سے لگ بھگ 14 کروڑ انسان شدید متاثر یا بیمار ہورہے ہیں۔ ان ممالک میں خود پاکستان بھی شامل ہے جو بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال کی طرح سنکھیا کے زہر سے متاثرہ چند بڑے ممالک کی صف میں موجود ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق آرسینک ملا پانی ہر سال 43 ہزار سے زائد اموات کی بنیادی وجہ بھی ہے لیکن آلودہ پانی کو صاف کرنے والے بہت سے کمرشل فلٹر انتہائی مہنگے ہیں اور غریب ممالک کے عوام کی دسترس سے باہر ہیں۔

پاکستان میں تربوز بھی بہت پائے جاتے ہیں اور سنکھیا سے آلودہ پانی کے بھی وسیع ذخائر ہیں۔ اسی بنا پر فیصل آباد کی یونیورسٹٰی آف ایگریکلچر کے شعبہ مٹی اور ماحولیات سے وابستہ ڈاکٹر نبیل نیازی اور ان کے ساتھیوں نے تربوز کے چھلکوں سے آرسینک فلٹر تیار کیا ہے۔ اس فلٹر کی تفصیلات سائنس آف دی ٹوٹل انوائرمنٹ میں شائع ہوئی ہیں۔

ڈاکٹرنبیل اور دیگرماہرین کا دعویٰ ہے کہ ان کا بنایا ہوا تربوز چھلکا آرسینک فلٹر اس وقت دنیا کا سب سے ارزاں واٹر فلٹر بھی ہے، 6 سے 8 ماہ تک فلٹر کا خرچ صرف تین سے چار ہزار روپے ہے، تربوز کے چھلکے سے بنا فلٹر ایک دن میں 20 لیٹر پانی کو سنکھیا سے پاک کردیتا ہے۔

ایگریکلچر یونیورسٹی آف فیصل آباد کے ماہرین نے تربوز کے چھلکوں میں زنتھیٹ نمکیات ملائے جو آرسینک معدن کو کشش کرکے خود سے جوڑ لیتے ہیں۔ اسی بنیاد پر ایک فلٹر کا نمونہ بنایا گیا اور پاکستان کے کئی علاقوں سے سنکھیا ملے پانی کے نمونوں کو جب اس سے گزارا گیا تو حیرت انگیز طور پر فلٹر نے 95 فیصد سنکھیا جذب کرلی۔

اس موقع پر ڈاکٹر نبیل نیازی نے کہا کہ یہ ایجاد 2014ء میں کینیڈا کی جانب سے ’گرانڈ چیلنجز‘ میں ان کے پروجیکٹ منظور ہونے سے ملنے والی مالی مدد سے ممکن ہوئی ہے، ہماری توجہ ایسے غریب علاقوں کے لوگوں پر ہے جہاں بجلی موجود نہیں اور نہ ہی لوگوں کے پاس مہنگے فلٹرز خریدنے کے لیے وسائل ہوتے ہیں ان میں سے بعض فلٹر کی قیمت 20 سے 25 ہزار روپے تک ہوتی ہے۔

ڈاکٹر نبیل نیازی نے ایکسپریس ویب کو بتایا کہ قدرتی طور پر ہم پھلوں اور سبزیوں کی باقیات کو ’حیاتی فضلہ‘ یا بایو ویسٹ کہتےہیں ان میں بہت سے مفید بایو پالیمرز اور کیمیا کی زبان میں سرفیس فنکشنل گروپس ہوتے ہیں، آرسینک معدن این آئن کیفیت رکھتا ہے جس پر نگیٹو چارج ہوتا ہے۔

ڈاکٹر نبیل نے کہا کہ اس کے لیے میری نگرانی میں ایک طالب علم محمد بلال شکور نے تربوز کے چھلکوں کو کاربن ڈائی سلفائیڈ سے ٹریٹ کیا تاکہ اس میں سلفر گروپ شامل ہوجائے، سلفر گروپ کی خاصیت یہ ہے کہ یہ سنکھیا کو کشش کرکے جذب کرتا ہے۔

اپنی ایجاد کے متعلق انہوں نے مزید بتایا کہ اسی طریقے کو پانی میں آرسینک کا پتا لگانے والے ایک مؤثر سینسر میں بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے اس طرح آرسینک کا پتا لگانے والا ایک کم خرچ آلہ بھی بنایا جسکتا ہے جس پر کام جاری ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی ماہرین کی یہ ایجاد ’حیاتی انجذاب‘ (بایو ایبزوربنٹس) میں شمار ہوتی ہے جس میں مختلف قدرتی اجزا سے مضر کیمیکلز کو ختم کیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر نیازی نے کئی سبزیوں اور پھلوں کے چھلکے اور باقیات کو باری باری آزمایا جن میں تربوز کا چھلکا آرسینک کے خاتمے میں سب سے مؤثر ثابت ہوا ہے۔

اگلے مرحلے میں حکومتِ پاکستان کے تعاون سے بایو آرسینک فلٹر کو ملک کے دیہی علاقوں میں آزمایا جائے گا جہاں کنووں اور پانی کے ذخائر میں سنکھیا عام پایا جاتا ہے۔

اگر کوئی سنکھیا ملا پانی پی لے تو قے اور دست کا مرض لاحق ہوجاتا ہے، طویل عرصے تک آرسینک ملا پانی استعمال کیا جائے تو اس سے جلد کا سرطان، سانس کے امراض اور دیگر جان لیوا بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔

خصوصاً جنوبی ایشیا کے کئی ممالک کے آبی ذخائر سنکھیا کے زہر سے آلودہ ہیں اور اس ضمن میں یہ اہم ایجاد ہزاروں لاکھوں افراد کی جانیں بچاسکتی ہیں۔ واضح رہے کہ سنکھیا سے آلودہ پانی سے شکار ہونے والے ممالک میں بھارت ، پاکستان اور بنگلہ دیش بالترتیب پہلے ، چوتھے اور چھٹے بڑے ملک ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں