55

استاد امانت علی خان کی 44 ویں برسی آج منائی جارہی ہے

نا مور کلاسیکل و غزل سنگر اور پٹیالہ گھرانے کے لیجنڈ استاد امانت علی خان کی برسی ۱ٓج 17ستمبر بروز پیر کو انتہائی عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہے۔

شام چوراسی ہوشیار پورپنجاب کے پٹیالہ گھرانہ سے تعلق رکھنے والے مذکورہ لیجنڈ نے 1922 میں بھارت کے صوبہ پنجاب کے علاقہ شام چوراسی ہوشیار پور میں اختر حسین خان کے ہاں جنم لیا۔

استاد امانت علی خان تقسیم برصغیر کے بعد پاکستان آئے اور لاہور میں ریڈیو پاکستان سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا ۔اپنی شاندار خدمات پر پرائیڈ آف پرفارمنس کا اعزاز کرنے والے استاد امانت علی خان جنہوں نے گائیکی کی تربیت اپنے والد سے حاصل کر کے ملی نغموں ، غزلوں اور کلاسیکل گیتو ں میں شہرت کی بلندیوں اور مقبولیت کی اعلیٰ منزلوں کو چھوا نے سینکڑوں کی تعداد میں انتہائی خوبصورت، دلفریب اور روح کو لبھانے والے نغمات و غزلیں گائیں، جن میں اے وطن پیارے وطن، انشاء جی اٹھو، اے میرے پیارکی خوشبو، یہ آرزو تھی، موسم بدلا، یہ نہ تھی ہماری قسمت ،کب آئو گے ، ہونٹوں پہ کبھی ان کے وغیرہ اب بھی زبان زد عام ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں