60

چمگادڑ کی طرح آواز سے ’’دیکھنے‘‘ والا ’’روبیٹ‘‘

انجینئروں نے عین چمگادڑ کی طرز پر ایک روبوٹ بنایا ہے جو آواز کی لہروں سے رکاوٹوں کا احساس کرتے ہوئے آگے بڑھتا رہتا ہے۔ اس روبوٹک چمگادڑ کو ’روبیٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

چار پہیوں والا یہ روبوٹ اپنا کام عین چمگادڑ کی طرح سیکھتا ہے۔ اسرائیل کی تل ابیب یونیورسٹی میں انجینئر یوسی یوول اور ان کے ساتھیوں نے ’روبیٹ‘ ایجاد کیا ہے۔ روبیٹ میں اسپیکر چمگادڑ کے منہ کا کام کرتا ہے جبکہ اس کے دائیں اور بائیں جانب دو مائیکروفون جانور کے کان کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ بعض چمگادڑوں کی نظر بہت ہی خراب ہوتی ہیں یا وہ بالکل نابینا ہوتی ہیں۔ یہ اپنے منہ سے مخصوص فریکوئنسی کی آواز خارج کرتی ہیں جو سامنے رکاوٹ سے ٹکرا کر واپس لوٹ کر ان کے کانوں تک پہنچتی ہے۔ اس طرح نہ صرف چمگادڑ کسی رکاوٹ سے ٹکرانے سے محفوظ رہتی ہے بلکہ اسے رکاوٹ کے فاصلے کا بھی درست احساس ہوتا ہے۔ اس عمل کو ’ایکولوکیشن‘ کہا جاتا ہے۔

روبیٹ کو آزمائش کےلیے ایک گرین ہاؤس میں چھوڑا گیا جہاں جابجا پودے اور گملے موجود تھے۔ روبیٹ نے سب سے پہلے چلتے ہوئے نصف میٹر دوری سے آواز خارج کی جو رکاوٹ سے ٹکرا کر واپس دو مائیکروفونز تک لوٹی۔ اس طرح روبوٹ کسی کیمرے کے بغیر رکاوٹوں سے بچتا ہوا آگے بڑھتا رہا۔

یوسی کے اس روبیٹ کا الگورتھم اسے مسلسل سیکھنے کے عمل سے گزارتا ہے اور ایک وقت میں وہ پودے اور دیگر اشیا کے درمیان تمیز بھی کرسکتا ہے۔ اس طرح کے روبوٹ کو حادثات کی صورت میں مدد کےلیے اور شدید موسم میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں