48

ترکی: منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن،200 افراد گرفتار

ترک پولیس نے منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کے دوران 2 سو سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق دارالحکومت استنبول کی عدالت نے 4 سو 17 مشتبہ افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے جبکہ 40 شہروں میں کیے گئے ملک گیر آپریشن میں 2 سو 16 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

ترکی کی سرکاری خبر ایجنسی اناطولو کے مطابق ترک پولیس نے ان تمام افراد کو امریکا میں مقیم ایرانی نژاد افراد کو غیرقانونی طریقوں سے رقم منتقل کیے جانے کے جرم میں گرفتار کیا۔

اناطولو ایجنسی کے مطابق مشتبہ افراد کو دہشت گردوں کی مالی امداد اور مجرمانہ سازش میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا ہے۔

علاوہ ازیں مشتبہ افراد سے متعلق مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

اناطولو ایجنسی کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ان افراد نے 2017 سے اب تک 2 ارب 40 کروڑ لیرا ( 40 کروڑ ڈالر) 28 ہزار 88 غیر ملکی اکاؤنٹس میں منتقل کیے تھے۔

خبر ایجنسی کے مطابق یہ رقوم غیرقانونی طور پر منتقل کرنے والے افراد کو کمیشن دیا جاتا تھا۔

تحقیقات کے مطابق جن افراد کو یہ فنڈز بھیجے گئے تھے ان میں سے اکثر کا تعلق بنیادی طور پر ایران سے ہے اور وہ امریکا میں مقیم تھے۔

تاہم جن افراد کو یہ اتنی بڑی تعداد میں رقم بھیجی گئیں ان سے متعلق مزید کوئی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا کہ اس ٹرانسفر کے پیچھے کوئی مجموعی مقصد تھا یا نہیں۔

ترکی کی جانب سے یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں عمل میں آئی ہیں جب امریکا 2015 کا جوہری معاہدہ منسوخ کرنے کے بعد ایران پر معاشی پابندیوں کے دوسرے مرحلے کی تیاری میں ہے جس میں ایران کا مالیاتی نظام اور تیل کی برآمدات متاثر ہوسکتی ہیں۔

واضح رہے کہ ترکی کا یہ اقدام دہشت گردی کے الزام میں گرفتار پادری سے متعلق تلخی کے بعد سامنے آیا، اس واقعے کے بعد امریکا نے ترکی پر معاشی پابندیاں عائد کردی تھی ۔

امریکی پابندیوں کے بعد سے ترکی کو اپنی کرنسی لیرا کی قدر میں کمی کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال کے آغاز میں امریکا نے ترک بینک ہالک بینک کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل مہمت ہاکان اتیلا کو ایران کی مدد کرنے کے الزام میں مجرم قرار دیا تھا۔

مذکورہ کیس میں ترکی میں مقیم تاجر رضا ضراب جو کبھی انقرہ حکام سے بہت قریب تھے انہوں نے مخبری کرتے ہوئے ترک قیادت کے خلاف ثبوت بھی فراہم کیے تھے۔

واضح رہے کہ ترکی اپنی ضروریات کے لیے ایران سمیت دیگر غیر ملکی سپلائرز پر انحصار کرتا ہے، ترکی تیل اور قدرتی گیس روس کے علاوہ ایران سے بھی درآمد کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں