53

پیرس بم حملے کی سازش میں ایران ملوث تھا، فرانس کا الزام

فرانس نے پیرس کے نزدیک ایک جلاوطن اپوزیشن گروہ پر بم حملے کی ناکام سازش کے پیچھے ایرانی وزارت انٹیلی جنس کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی حکومت نے اعلان کیا کہ انہوں نے ایرانی وزارت انٹیلی جنس اور سیکیورٹی سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد کے ساتھ 2 مشتبہ ایرانی انٹیلی جنس اہلکاروں کے تمام اثاثے منجمند کردیے۔

واضح رہے کہ پیرس کے مضافات میں ایران کی پیپلز مجاہدین (ایم ای کے) کے ایک اجتماع پر بم حملہ کرنے کی مبینہ سازش پکڑے جانے کے 3 ماہ بعد فرانس نے اس پر سخت کارروائی کا اعلان کیا تھا۔

اس بارے میں فرانسیسی وزارت داخلہ، خارجہ اور خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسا ممکن نہیں کہ ہماری سرزمین پر اتنا سنگین منصوبہ بنایا جائے اور ہم کوئی ردعمل نہ دیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے سے فرانس کا تمام صورتوں میں دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے عزم کا اظہار ہوتا ہے، خاص کر وہ جو اس کی اپنی سرزمین پر ہو۔

اس حوالے سے ایک سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ ’اپنی تحقیقات میں سیکیورٹی فورسز اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ اس کا حکم ایران کی وزارت انٹیلی جنس کے آپریشن ہیڈ نے دیا تھا‘۔

واضح رہے کہ 30 جون کو پیرس کے مضافات میں ایک نمائشی مرکز میں ایرانی حزبِ اختلاف کے حمایتیوں کے ایک اجتماع کے 2 روز بعد بم دھماکے کی مبینہ سازش سامنے آئی تھی۔

اس اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 2 اتحادیوں، ایوان نمائندگان کے اسپیکر نیوٹ جنجرچ اور نیویارک کے سابق میئر روڈی گلیانی نے بھی شرکت کی تھی۔

پیپلز مجاہدین نامی تنظیم 1960 میں شاہ ایران کا تختہ الٹنے کے لیے بنائی گئی تھی جو اس کے بعد سےا یران میں بننے والی اسلامی حکومت کی بھی مخالف رہی ہے۔

جولائی میں بیلجیئم نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے برسلز میں ایک جوڑے کو گرفتار کیا ہے جو فرانس میں ہونے والی ریلی میں دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی لے جانے کا ارادہ رکھتا تھا جس کے بعد یورپی پولیس نے ویانا میں موجود ایرانی سفارتکار سمیت 6 افراد کو گرفتار کرلیا تھا۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے اعلان کے بعد فرانس ایران کی حمایت میں سامنے آیا تھا۔

تاہم شام اور یمن میں جاری خانہ جنگی میں ایران کے کردار کے باعث حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں سرد مہری دیکھنےمیں آئی جبکہ پیرس نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بھی خدشات کا اظہار کیا۔

ایرانی ردعمل
ایران نے فرانس کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے جبکہ اس سے قبل جولائی میں ایم ای کے کی جانب سے سازش کے پیچھے ایران کے ملوث ہونے کی بھی تردید کی گئی تھی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام غثیمی نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ’ تہران فرانسیسی الزامات کی قطعی طورپر سختی سے تردید کرتاہے لیکن پھر بھی مذاکرات کے دروازے کھلے رہیں گے‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں