13

بعض مکڑیاں گائے سے زیادہ غذائیت بھرا دودھ دیتی ہیں

قدرت کے کارخانے سے ایک حیرت انگیز خبر آئی ہے کہ بعض مکڑیاں اپنے بچوں کی لے دودھ نما مائع خارج کرتی ہیں جو غذائیت میں کسی بھی طرح گائے کے دودھ سے کم نہیں ہوتا۔ اس مائع کو پی کر ان کے بچے بہت تیزی سے بڑھتے ہیں۔

بعض مکڑیوں کے بچے ہمارے بچوں کی طرح ہوتے ہیں اور ان کی ماں بچوں کو دودھ جیسا مائع پلاتی ہیں۔ کچھ مکڑیوں کے بچے چھوٹے کیڑے یا پھولوں کے زردانوں پر گزارا کرتے ہیں اور بعض بالغ ہوکر شکار سیکھنے تک کچھ نہیں کھاتے۔

چینی اکادمی برائے سائنس کے ماہرین نے کہا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں پائی جانے والی ایک مکڑی ٹوکسیئس میگنس کے بچے برق رفتار سے بڑھتے ہوئے صرف 20 دن میں بلوغت تک پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن نہ ہی ان کی ماں اور نہ ہی بچے کھانے کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتے ہیں۔

’ ہم ان مکڑیوں پر غور کررہے تھے کہ ایک رات بچہ مکڑی کو اپنی ماں سے چپکا ہوا پایا،‘ چینی ماہر زینجی چین نے بتایا۔ اسے دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ شاید ماں مکڑی اپنے بچوں کو چمٹا کر کوئی شے پلارہی ہے۔ اس کے بعد مکڑی کو احتیاط سے لے کر خردبین سے کے ذریعے دیکھا گیا تو اس کے بدن سے ایک مائع کے چھوٹے قطرے خارج ہورہے تھے جو دودھ جیسے تھے۔ اس کی غذائیت گائے کے دودھ سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔

اگلے مرحلے میں بچوں کو یہ قطرے پینے سے روکا گیا تو وہ صرف دس دن میں ہی مرگئے۔ اس سے معلوم ہواکہ یہ ’دودھ‘ بچوں کے لیے کسی غذائیت بھری شے کی طرح ہی ہے اور بچہ مکڑی کی بقا کے لیے بہت ضروری ہے۔

اگرچہ یہ بچے صرف 20 دن میں بالغ ہوکر شکار کے لیے باہر نکل جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ 40 دن تک دودھ پینا نہیں چھوڑتے اور اس دوران چھوٹے کیڑوں کو بھی کھاتے رہتے ہیں۔ اب اس مرحلے پر بھی ماں کو بچوں سے دور کردیا گیا تو ان کی زندہ رہنے کے امکانات میں 40 فیصد کمی واقع ہوگئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں