16

جارح سعودی اتحاد کے ٹھکانوں پر یمنی فوج کے جوابی حملے

سعودی حکومت نے سوئیڈن میں یمن کے امن مذاکرات کو ناکام بنانے کے لئے یمن کے مختلف علاقوں پر حملے تیز کر دیئے جس کے جواب میں یمنی افواج نے جارح اتحاد کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکارفورس نے سعودی عرب کے جنوبی صوبے عسیر کے مجازہ علاقے میں ایک بڑی کارروائی کے دوران سعودی فوجیوں اور ان کے اتحادیوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا جبکہ بڑی مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود بھی ضبط کر لیا-

العالم ٹیلی ویژن چینل نے خبر دی ہے کہ یمنی فوج نے سعودی عرب کے صوبے عسیر میں علب گذرگارہ کے قریب دشمن کی سپلائی لائن پر قبضہ کر لیا-

یمنی فوج نے اس سے پہلے تین دسمبر کو بھی جارح سعودی اتحاد کے وحشیانہ حملوں کے جواب میں سعودی صوبے عسیر میں فوجی ٹھکانوں پر شدید حملہ کیا تھا اس حملے میں زلزال بیلسٹک میزائل سے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا-

اس درمیان یہ بھی خبر ہے کہ یمنی فوج نے یمن کے صوبہ صنعا کے شمال مشرقی علاقے فرضہ نہم میں سعودی اتحاد کے ٹھکانوں پر قاصف ایک ڈرون طیارے سے بمباری کی-

اس حملے میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی فوجیوں کی خاصی تعداد ہلاک اور زخمی جبکہ سعودی عرب کی ایک فوجی گاڑی بھی تباہ ہو گئی-

یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحیی سریع نے کہا ہے کہ یمنی فوج نے صنعا کے نہم علاقے میں دشمن کے پے در پے حملوں کو پسپا کر دیا۔ اس دوران سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے دسیوں فوجی ہلاک اور زخمی ہو گئے-

یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے بتایا کہ البیضا شہر کے قانیہ محاذ پر بھی سعودی اتحاد کے حملوں کو یمنی فوج نے بری طرح پسپا کر دیا- اس کارروائی میں بھی دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا-

سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ذریعے یمن کا محاصرہ جاری رہنے کے باوجود یمنی فوج کی دفاعی توانائیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے-

سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے امریکا کی ایماء پر مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن کو اپنے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنا رکھا ہے جن میں اب تک دسیوں ہزار بے گناہ یمنی شہری شہید اور زخمی ہو چکے ہیں جبکہ اس ملک کی بنیادی شہری تنصیبات تباہ ہو گئی ہیں-

محاصر کی وجہ سے یمن کے عوام کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے اور دواؤں کے فقدان کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں یمنی بچے موت کے خطرات سے دوچار ہیں-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں