63

امریکہ میں شٹ ڈاؤن کو بیس روز مکمل

امریکہ میں حکومتی شٹ ڈاؤن بیسویں روز میں داخل ہو گیا۔

سی این این کے مطابق امریکہ میں حکومتی شٹ ڈاؤن چوتھے ہفتے میں داخل ہو گیا ہے اور وفاقی اداروں میں کام کاج ٹھپ پڑا ہے۔ امریکی تاریخ کا سب سے طویل شٹ ڈاؤن صدر بل کلنٹن کے دوران میں ہوا تھا جو اکیس روز تک جاری رہا۔
میکسیکو کی سرحد پر دیوار کے تعمیر کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کانگریس کے ڈیموکریٹ ارکان کے درمیان اختلافات دور نہیں ہو سکے ہیں۔
میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کا اجلاس بھی برخاست کر دیا گیا جبکہ آئندہ اجلاس کے لیے کسی ایجنڈے کا بھی اعلان نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر سرحدی دیوار کی تعمیر کا بجٹ فراہم نہ کیا گیا تو وہ ملک میں ایمرجنسی نافذ کر سکتے ہیں۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ صدر ٹرمپ اور کانگریس کے ڈیموکریٹ ارکان کے درمیان بدھ کے روز ہونے والی ملاقات پھر ناکام ہو گئی۔
کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ نے ڈیموکریٹ کے ساتھ ہونے والی ملاقات ادھوری چھوڑی اور وہ غصے کا اظہار کرتے ہوئے ہال سے باہر نکل گیے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ دنوں میکسیکو کی سرحد سے ملنے والی جنوبی امریکہ کی سرحدوں کے معائنے کے موقع پر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس اور یا امریکی کانگریس، سرحدی دیوار کا بجٹ پاس نہیں کرتی ہے تو وہ ہنگامی حالت کا اعلان کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ آئندہ چند روز مزید صبر کریں گے تاکہ کانگریس اپنے فیصلے اور بعد والے اقدام کا اعلان کرے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ، ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کر کے امریکی کانگریس کو نظرانداز کرتے ہوئے پینٹاگون کے بجٹ سے سرحدی دیوار کی تعمیر کے ضروری اخراجات کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے ایمرجنسی کے نفاذ کے علاوہ یہ دھمکی بھی دی ہے کہ وہ ہر اس بجٹ بل کو ویٹو کردیں گے جس میں دیوار کی تعمیر کے لیے درکار بجٹ فراہم کرنے سے گریز کیا گیا ہو۔
ٹرمپ نے کانگریس کو بھی خبردار کیا ہے کہ حکومتی شٹ ڈاؤن جاری رہا تو عالمی اقتصادی فورم میں شرکت نہیں کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں