57

شٹ ڈاؤن کے خلاف امریکی ملازمین کا احتجاج

حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث تنخواہوں سے محروم ہونے والے سیکڑوں سرکاری ملازمین نے اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے وائٹ ہاؤس کی جانب مارچ کیا۔

خبروں میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے سیکڑوں ملازمین نے حکومتی شٹ ڈاؤن جاری رہنے کے خلاف واشنگٹن کی سڑکوں پر احتجاج اور وائٹ ہاوس کی جانب مارچ کرتے ہوئے تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔
امریکہ میں حکومتی شٹ ڈاؤن کو بیس روز مکمل ہونے پر کیے جانے والے اس مظاہرے میں شریک لوگ شٹ ڈاؤن ختم کرو، سرکاری کام بحال کرو اور ہمیں کام کرنے دو جیسے نعرے لگا رہے تھے۔
تقریبا آٹھ لاکھ امریکی ملازمین حکومتی شٹ ڈاؤن کی وجہ سے گھروں میں رہنے یا بغیر تنخواہوں کے کام کرنے مجبور ہیں۔
دوسری جانب امریکہ کے وفاقی ملازمین کی ایک اور یونین نے شٹ ڈاؤن جاری رہنے کے باعث وائٹ ہاؤس کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ سے وابستہ تینتیس اداروں کے ڈیڑھ لاکھ ملازمین کی تنظیم این ٹی ای یو کے سربراہ نے شٹ ڈاؤن کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ناکارہ پن کے اخراجات وفاقی ملازمین اپنی جیب سے ادا نہیں کریں گے۔
اس سے چند روز پہلے سرکاری ملازمین کی انجموں کے وفاق نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف ایسی ہی ایک درخواست جمع کرائی تھی۔

امریکہ میں حکومتی شٹ ڈاؤن کی وجہ سے وفاقی حکومت کے سیکڑوں ملازمین کو اپنی روز مرہ زندگی کے اخراجات کے حوالے سے سخت تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے معاملے پر حکومت امریکہ اور ڈیمو کریٹس کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے امریکی حکومت بیس دسمبر سے جزوی شٹ ڈاؤن پر ہے اور وفاقی حکومت کے تقریباً آٹھ لاکھ ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں۔
امریکی صدر نے امریکا اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے پانچ ارب ستر کروڑ ڈالر جاری نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو بھی فنڈز جاری کرنے کے قانون پر دستخط کرنے اور حکومتی شٹ ڈاؤن ختم کرنے سے انکار کر دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر دھمکی دی ہے کہ اگر کانگریس نے میکسیکو کے ساتھ ملحقہ سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈز جاری نہ کیے تو وہ ہنگامی صورتحال نافذ کر کے اس مقصد کے لیے فنڈز حاصل کر لیں گے۔
درایں اثنا اطلاعات ہیں کہ ڈیموکریٹس کے ساتھ ہونے والے بجٹ مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں جن کا ایوانِ نمائندگان پر کنٹرول ہے اور ان کی جانب سے صدر ٹرمپ کو رقم دینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے ایمرجنسی کے نفاذ کے علاوہ یہ دھمکی بھی دی ہے کہ وہ ہر اس بجٹ بل کو ویٹو کردیں گے جس میں دیوار کی تعمیر کے لیے درکار بجٹ فراہم کرنے سے گریز کیا گیا ہو۔
ٹرمپ نے کانگریس کو بھی خبردار کیا ہے کہ حکومتی شٹ ڈاؤن جاری رہا تو عالمی اقتصادی فورم میں شرکت نہیں کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں