194

صنعتکاروں کا ایک بار پھر ہر اتوار کو صنعتوں کی بندش پر اتفاق

ایس ایس جی سی اور کراچی کے صنعتکاروں نے ایک بار پھر ہفتہ وار بنیادوں پر ہر اتوار کو تمام صنعتی زونز میں صنعتوں کی بندش پر اتفاق کرلیا ہے۔

ایس ایس جی سی کے مرکزی دفتر میں منعقدہ ہنگامی اجلاس میں حکام کی جانب سے صنعتکاروں کو بتایا گیا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی گیس ترسیل کا نظام مفلوج ہو گیا ہے، لہذا نظام اورگیس پریشر کی بحالی کیلیے صنعتکار ایس ایس جی سی تعاون کریں۔

ممتاز صنعتکار زبیر موتی والا نے ایکسپریس کو بتایا کہ دوران اجلاس ایس ایس جی سی حکام نے مفلوج نظام کی بہتری کیلیے ہفتے میں 2 دن صنعتیں بند کرنے کی تجویز دی ہے کیونکہ ایس ایس جی سی کا شارٹ فال 200 ایم ایم سی ایف ڈی تک پہنچ گیا ہے لیکن صنعتکار ہفتے میں 2 دن اپنی صنعتیں بند کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
انھوں نے بتایا ایس ایس جی سی کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ ہر اتوار کو تمام صنعتیں بند کروانے کے بجائے ہر صنعتی علاقے میں 6 متبادل ایام میں لوڈ شیڈنگ کا شیڈول ترتیب دے تاہم ایس ایس جی سی حکام نے اتوار کو رضاکارانہ بنیادوں پر تمام صنعتیں بند کرنے کی صورت میں 6 دن گیس فراہم کرنے کی دوبارہ پیشکش کی ہے۔

سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر سلیم پاریکھ نے بتایا کہ سائٹ سمیت دیگر صنعتی علاقوں میں جمعے کو متواتر تیسرے دن بھی گیس کے بحران کا سامنا رہا ہے جس کی وجہ سے برآمدی آرڈرز کی تکمیل پیداواری سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں