74

مقناطیسی دانت والا سمندری کیڑا نئی ٹیکنالوجی میں مددگار

سمندروں میں پایا جانے والا ایک صدفہ (مولسک) ایسے دانت رکھتا ہے جو مقناطیسی مادے پرمشتمل ہیں اور اسے دیکھ کر ماہرین اگلی نسل کے سخت ترین مٹیریل اورتوانائی کے لیے نینو اسکیل اشیا بناسکیں گے جس کی ابتدائی تحقیق شروع ہوگئی ہے۔

گمبوٹ کائٹن نامی کیڑے کا دانت تمام جان داروں میں سب سے مضبوط ہوتا ہے اور مقناطیسی معدن ’میگنیٹائٹ‘ پرمشتمل ہوتا ہے۔ اپنے مضبوط دانتوں کی بدولت یہ جانور سمندر سے الجی کھرچ کھرچ کے کھاتا ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اس سے ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ رہنے والے اوزار اور توانائی پیدا کرنے والے نینو پیمانے کے مٹیریل بھی بنائے جاسکتے ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ میگنیٹائٹ زمینی چٹانوں میں پایا جاتا ہے اوراسے بہت ہی کم جان داروں میں دیکھا گیا ہے۔ اسے تجربہ گاہ میں تیار کرنے کے متعلق بھی ہماری معلومات ناکافی ہیں۔ اب یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، ریور سائیڈ کے سائنس داں پروفیسر ڈیوڈ کیسائلس اور اوکایاما یونیورسٹی کے ڈاکٹر میشی کونیموٹو نے مشترکہ طور پر اس جانور کے اس جینیاتی وجوہ کو معلوم کیا ہے جس کے ذریعے اس کے دانتوں میں مقناطیسی خواص پیدا ہوتے ہیں۔

اس جانور کے منہ میں دانتوں کی کئی قطاریں ایک ربن کی طرح موجود ہوتی ہیں۔ دانت کی نوک میگنیٹائٹ پر مشتمل ہوتی ہے اور نیچے اس کی جڑ ہوتی ہے۔ جیسے ہی دانت میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے تو نیا دانت بننا شروع ہوجاتا ہے۔

کسی خاص جین کی بجائے سائنس دانوں نے اس جانور کے دانتوں میں موجود وہ تمام آراین اے معلوم کیے جو کوئی خاص پروٹین یا شے بناتے ہیں۔ ماہرین نے دیکھا کہ دانت میں فولاد جمع کرنے اور خارج کرنے والے ایک حصے میں فیراٹن نامی پروٹین موجود ہے جو دانتوں کی افزائش میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مجموعی طور پر ماہرین نے 22 ایسے پروٹین دریافت کیے جو دانتوں میں مقناطیسیت پیدا کرتے ہیں اور ان میں بالکل نیا پروٹین ’ریڈیولر ٹیتھ میٹرکس پروٹین ون‘ بھی شامل ہے۔

اسے سمجھ کر ماہرین الیکٹرانکس، نینو اسکیل توانائی، حیاتیاتی مقناطیس اور دیگرکئی اشیا اور ٹیکنالوجی پر کام کرسکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں