56

وینزویلا: امداد روکنے پر اپوزیشن لیڈر کی فوج کو تنبیہ

وینزویلا کے اپوزیشن لیڈر اور 50 ممالک کی جانب سے نگراں صدر تسلیم کیے جانے والے جووان گوائیڈو نے فوج کو خبردار کیا ہے کہ انسانی بنیادوں پر بھیجی گئی امداد ملک میں آنے سے روکنا ’ انسانیت سوز جرم ‘ ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’ اے ایف پی ‘ کے مطابق جووان گوائیڈو نے یہ بات وینزویلا کے صدر نکولس مدورو کی جانب سے غیرملکی امداد روکنے پر کی ہے جسے روکنے میں مسلح افواج کے کردار کا اہم ہے۔

3 روز سے امریکا کی جانب سے بھبیجی گئیں ادویات اور خوراک وینزویلا کے سپاہیوں کی جانب سے دونوں ممالک کو ملانے والا پل بند کرنے کی وجہ سے کولمبیا کے شہر کوکوتا سے ملحقہ بارڈر پر موجود ہیں۔

گزشتہ روز وینزویلا کی سرحد پر سرجن جوس لیوس میتیس ڈی لا روا سمیت درجنوں ڈاکٹروں نے ملک میں امداد آنے کی اجازت کے مطالبے کے تحت احتجاج کیا تھا۔

سرجن جوس لیوس نے نکولس مدورو پر وینزویلا کے شعبہ طب کو ’ قرون وسطیٰ‘ کے دور میں دھکیلنے کا الزام عائد کیا تھا۔

جووان گوائیڈو نے اپنی اہلیہ اور بچی کے ہمراہ ریلی میں شرکت کے بعد کہا کہ ’جو لوگ اس بحران کے ذمہ دار ہیں ریاست کو ان سے آگاہ ہونا چاہیے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ مسلح افواج کے جوانوں، یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے‘۔

امداد روکے جانے کو نسل کشی کے مترادف قرار دیتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے خبردار کیا کہ فوج کو احتجاج میں شریک مظاہرین کی موت کا ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔

انہوں نے 12 فروری کو 21 جنوری سے جاری کشیدگی کے دوران ہلاک ہونے والے 40 افراد کی یاد میں ریلی منعقد کرنے کی تصدیق بھی کی۔

اس کے ساتھ ہی جووان گوائیڈو نے نکولس مدورو کا ساتھ چھوڑنے والے اہلکاروں کے لیے عام معافی کی پیشکش کی ہے لیکن ملٹری قیادت تاحال نکولس مدورو کے ساتھ ہے۔

گزشتہ روز وینزویلا کی فوج نے جنگی مشقوں کے آغاز کا اعلان کیا جو 15 فروری تک ملک بھر میں جاری رہیں گی تاکہ دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں