56

اُون اور کروشیا سے نت نئے ڈیزائن تخلیق کرنے والا افریقی بچہ

گھر میں کسی نئے مہمان کی آمد ہو یا سردی کا موسم دروازے پر دستک دے رہا ہو تو اہل خانہ میں سے دادی یا والدہ کو ان کا استقبال سویٹر بُنتے کرتے دیکھا گیا ہے، یہ سویٹرز جہاں سردی سے بچاؤ کا ذریعہ ہوتے ہیں تو وہیں اپنے دلکش نقش و نگار کے باعث دیدہ زیب بھی ہوتے ہیں۔ اب ایک لمحے کو سوچیئے 5 سالہ بچہ جسے ڈھنگ سے سویٹر پہننا بھی نہ آتا ہو وہ ہاتھوں میں سوٓا لیے اون سے جاذب نظر ڈیزائن والا سویٹر، مفلرز، قالین اور صوفہ میٹس بُن رہا ہو۔

افریقی ملک ایتھوپیا کا 11 سالہ جوناح حیرت انگیز صلاحیت سے مالا مال ہے، وہ 5 سال کی عمر سے گیند یا کھلونوں سے کھیلنے کے بجائے سویٹر بُن رہا ہے، اہل خانہ، رشتہ داروں اور اہل محلہ کو تحفتاً یہ خوبصورت تخلیق پارے دینے والا بچہ اب ایک ماہر کاریگر بن چکا ہے اور سوشل میڈیا پر اپنا بزنس بھی چلا رہا ہے۔

جوناح کے انسٹاگرام پر ایک لاکھ 33 ہزار فالورز ہیں جب کہ ان کے حال ہی میں بنائے گئے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب والوں کی تعداد 26 ہزار تک جا پہنچی ہے جو نہ صرف جوناح کی تخلیقی صلاحیتوں کے معترف ہیں بلکہ ان کے خریدار بھی ہیں اور کچھ لوگ جوناح سے سویٹر بننے کی ٹپس بھی لیتے ہیں۔

جوناح کے والدین غربت کے باعث اس کی پرورش نہیں کر سکتے تھے اس لیے اسے دارالامان بھیج دیا گیا تھا جہاں ایک سفید فام فیملی نے انہیں گود لیا۔ جوناح نے اپنے نئے والدین کے ساتھ زندگی کا سفر شروع کیا تو ان کا پہلا ساتھی اون اور اون بننے والا سوا تھا۔

سفید فام فیملی نے سیاہ فام جوناح کی تخلیقی صلاحیتوں کو دنیا سے متعارف کرانے کا بیڑہ اُٹھایا اور جوناح کی دستکاری کی نمائش کی۔ دیکھتے ہی دیکھتے محض 11 سال کی عمر میں جوناح اپنے برانڈ ’ جوناح کی دستکاری‘ کے مالک بن گئے اور ڈالرز میں کمانے لگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں