17

سعودی عرب نے خاشقجی قتل کی بین الاقوامی تحقیقات کے مطالبے کو مسترد کردیا

سعودی عرب نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی آزاد تحقیقاتی اداروں کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ ریاض، ملزمان کے خلاف انصاف کے تمام تقاضے پورے کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

جینیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وفد کے سربراہ نے واضح کیا کہ ان کا ملک تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہا ہے، تاکہ گھناؤنے جرم کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے‘۔

سعودی عرب میں انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ بندر العیبان نے خبردار کیا کہ جمال خاشقجی سے متعلق تحقیقات کو بین الاقوامی ادارے کے ماتحت کرنے کا دباؤ دراصل ملک کے داخلی امور میں مداخلت ہے‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے تقریباً 36 ممالک کی جانب سے مشترکہ بیان جاری کیا تھا جس میں جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق انصاف کے تقاضے پورے کرنے پر زور دیا گیا۔

سعودی حکام نے تصدیق کی کہ ریاض کو جمال خاشقجی قتل کی تحقیقات سے متعلق ‘یونیورسل پریوڈک ریویو’ کی جانب سے تجاوزات گزشتہ برس نومبر میں موصول ہوئی تھی۔

سعودی عرب میں انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ ’مشتبہ شخص کے خلاف شفاف ٹرائل ہوگا اور کسی کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی، کسی پر تشدد یا کسی کے ساتھ غیر انسانی سلوک برتاؤ نہیں کیا گیا۔

بندر العیبان نے کہا کہ ’جمال خاشقجی قتل کیس میں تاحال تین سماعتیں ہوئی ہیں، ملزمان اور ان کے وکیل بھی موجود تھے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عالمی تنظیم سمیت این جی اوز اور دیگر اسٹیک ہولڈز عدالتی کارروائی دیکھ سکتے تھے‘۔

تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کس اداروں کو عدالت میں سماعت سننے کی اجازت دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں