20

سری لنکا میں ایمرجنسی نافذ، حملوں میں غیرملکی نیٹ ورک ملوث ہونے کا الزام

سری لنکا نے گرجا گھروں اور ہوٹلز میں ہونے والے ہولناک بم دھماکوں کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کردیا اور ساتھ ہی بین الاقوامی نیٹ ورک پر حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کر دیا ہے۔

خبررساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق صدارتی آفس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایمرجنسی قانون کا اطلاق آج (22 اپریل) کی شب سے ہوگا، جو پولیس اور فوج کو عدالتی احکامات کے بغیر مشتبہ افراد کو حراست میں لینے اور ان سے تفتیش کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

حکومت اس کے ساتھ ہی رات کے اوقات میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان بھی کردیا ہے جس کا اطلاق مقامی وقت کے مطابق رات 8 بجے ہوگا۔

گزشتہ روز سری لنکا میں ایسٹر کی تقریبات کے دوران گرجا گھروں اور ہوٹلز میں ہونے والے 8 بم دھماکوں میں 290 افراد ہلاک اور 5 سو زخمی ہوگئے تھے۔

دھماکوں کے پیشِ نظر سری لنکا کا دارالحکومت کولمبو آج تناؤ کا شکار تھا۔

حملوں پر تحقیقات سے متعلق پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں کولمبو بس اڈے سے 87 بم ڈیٹونیٹرز ملے ہیں۔

اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو بستیان مواتھا نجی بس اسٹینڈ سے ڈیٹونیٹرز ملے جن میں سے 12 زمین پر اور 75 قریبی کچرے کے ڈھیر سے پائے گئے۔

پولیس نے بتایا کہ انہوں نے 24 افراد کو گرفتار کیا تھا اور تمام افراد سری لنکا کے شہری تھے تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں دیں۔

تفتیش کاروں کا کہنا ہےکہ حملوں میں 7 خودکش بمباروں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ حملوں میں ایک بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث تھا۔

حکومت کے فارنزک ڈویژن کے سینئر عہدیدار آریا نندا ولیندا نے بتایا کہ 2 خودکش بمباروں نے خود کو شانگری-لا ہوٹل میں دھماکے سے اڑایا، دیگر نے 3 چرچوں اور 2 ہوٹلوں کو نشانہ بنایا۔

کولمبو میں چوتھے ہوٹل اور ایک گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا لیکن ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ حملے کس طرح کیے گئے۔

آریا نندا ولیندا نے کہا کہ ’ تحقیقات تاحال جاری ہیں‘۔

گزشتہ روز ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری کسی جماعت کی جانب سے قبول نہیں کی گئی لیکن مقامی تنظیم پر شبے کا اظہار کیا گیا ہے۔

حکومتی کابینہ کے ترجمان راجیتھا سیناراتنے نے کہا کہ حملوں میں ایک غیر ملکی نیٹ ورک ملوث تھا تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نہیں مانتے کہ یہ حملے کسی ایسے گروہ کی جانب سے کیے گئے جو صرف اسی ملک تک محدود تھے‘۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ’ان میں ایک غیر ملکی نیٹ ورک ملوث تھا جن کے بغیر یہ حملے کامیاب نہیں ہوسکتے تھے‘۔

سری لنکا کے صدر میتھری پالا سری سینا نے ایک بیان میں کہا کہ حملوں میں بین الاقوامی ہاتھ ملوث ہونے سے متعلق تحقیقات کے لیے غیر ملکی تعاون حاصل کریں گے۔

دوسری جانب انسداد دہشت گردی سے متعلق عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان حملوں میں مقامی تنظیم ملوث بھی ہے تو ان حملوں کو دیکھتے ہوئے اس میں القاعدہ یا داعش کے ملوث ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔

خبررساں اداروں کو حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق سری لنکا کے پولیس چیف نے 10 روز قبل خبردار کیا تھا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں قائم مسیحی عبادت گاہوں کو خود کش بمبار نشانہ بنا سکتے ہیں۔

پولیس چیف پنجوتھ جواساندارا نے 11 اپریل کو حکام کو ایک انٹیلی جنس شیئر کی تھی، جس میں حملوں کے حوالے سے خبردار کیا گیا تھا۔

انٹیلی جنس معلومات میں کہا گیا تھا کہ ‘غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی نے رپورٹ دی ہے کہ نیشنل توحید جماعت (این ٹی جے) کولمبو میں معروف مسیحی عبادت گاہوں اور انڈین ہائی کمشنر پر حملے کا منصوبہ بنا رہی ہے’۔

سری لنکا میں خود کش حملوں میں مہارت رکھنے والے تامل ٹائیگرز کو 2009 میں حکومت نے کچل کر ختم کردیا تھا اور وہ ماضی میں مسیحیوں اور ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں جبکہ یہاں کسی بھی مسلمان شدت پسند تنظیم کے حملوں کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں