61

برطانیہ: پہلی بار باحجاب لڑکی نے ’گھڑ دوڑ‘ جیت کر تاریخ رقم کردی

برطانیہ میں پہلی بار ایک 18 سالہ باحجاب مسلم لڑکی نے ’گھڑ دوڑ‘ کا مقابلہ جیت کر نئی تاریخ رقم کردی۔

افریقی نژاد برطانوی مسلم لڑکی خدیجہ ملاح نے لندن میں ہونے والے معروف گھڑ دوڑ کا مقابلہ جیت کر سب کو حیران کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ خدیجہ ملاح نے گھڑ دوڑ میں حصہ لینے سے محض تین ماہ قبل ہی گھڑ سواری کی تربیت لینا شروع کی تھی۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے خدیجہ ملاح کا مقابلہ سابق اولمپیئن چیمپیئن سمیت ماہر گھڑ سوار افراد سے تھا اور وہ مقابلے میں شامل تمام افراد میں سب سے کم عمر تھیں۔

خدیجہ ملاح نے تین ماہ قبل گھڑ سواری کی تربیت لینا شروع کی تھی—فوٹو: اے پی
خدیجہ ملاح نے یکم اگست کو ہونے والے گھڑ دوڑ مقابلے کو جیت کر جہاں تاریخ رقم کی، وہیں انہوں نے اس سے قبل اسی مقابلے میں حجاب کے ساتھ شرکت کرکے بھی نئی تاریخ رقم کی تھی۔

وہ جہاں اس مقابلے میں حجاب کے ساتھ شریک ہونے والی پہلی لڑکی ہیں، وہی وہ یہ مقابلہ جیتنے والی بھی پہلی کم عمر مسلم لڑکی ہیں۔

جیت کے بعد خدیجہ جذباتی ہوگئیں—فوٹو: پی اے
خدیجہ ملاح نے اپنی جیت کو دوسری مسلم لڑکیوں کے لیے مثال قرار دیتے ہوئے انہیں تجویز دی ہے کہ وہ بھی اس میدان میں آگے آئیں۔

برطانوی میڈیا کے مطابق جس وقت خدیجہ ملاح ریس کے آخری لمحات میں ریس ختم ہونے والے دائرے میں پہنچیں اور انہیں یقین ہوگیا کہ انہوں نے فتح حاصل کرلی ہے، تب ان کی آنکھوں سے آنسوں جھلک پڑے۔

خدیجہ ریس میں شامل افراد میں سب سے کم عمر تھیں—فوٹو: دی گارجین
گھڑ دوڑ جیتنے کے بعد خدیجہ ملاح نے عالمی میڈیا سے بات بھی کی اور اپنی جیت کو مسلم خواتین اور والدین کے نام کیا۔

خدیجہ ملاح نے گھڑ دوڑ میں حصہ لینے سے محض تین ماہ قبل اپریل 2019 میں گھڑ سواری کی تربیت لینا شروع کی تھی اور دن رات محنت کے بعد انہوں نے مقامی ریس کلب کی مدد سے گھڑ دوڑ میں حصہ لیا اور مقابلہ جیت کر نئی تاریخ رقم کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں