21

داعش کے خاتمے کی کوشش، شام میں بڑے پیمانے پر آپریشن کی تیاری

ترک صدر رجب طیب اردوگان نے شام سے مکمل طور پر داعش کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن کی تیاری شروع کردی۔

تفصیلات کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوگان نے واضح کیا ہے کہ شمالی شام میں دریائے فرات کے قریب داعش اور شدت پسند گروپ پروٹیکشن یونٹس کے خلاف آپریشن کیا جائے گا جس کا مقصد خطے سے عسکریت پسندوں کا خاتمہ ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اردوگان نے کہا ہے کہ روس اور امریکا پر واضح کردیا ہے کہ ترک فوج شمالی شام میں دریائے فرات کے مشرقی کنارے میں کرد عسکریت پسند گروپ کے خلاف فوجی آپریشن کا ارادہ کا رکھتا ہے۔

ایک بیان میں ترک صدر نے کہا کہ ہمارے پاس اب دریائے فرات کے مشرقی کنارے میں فوجی آپریشن کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا، ہم نے اس حوالے سے امریکا اور روس کو بھی بتا دیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی شام سےاپنی فوج نکالنے کا اعلان کیا تھا، اس وقت نیٹو کے دونوں رکن ملکوں نے ترکی کی شمال مشرقی سرحد سے متصل شامی علاقوں میں سیف زون کےقیام کی کوششوں پر اتفاق کیا گیا تھا۔

شام میں کرد پروٹیکشن یونٹس کو امریکا کی حمایت حاصل ہے جب کہ ترکی اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ غیر ملکی انٹیلی جنس داعش کے سربراہ کے ٹھکانے کا بھی تلاش کررہی ہے، گذشتہ ہفتے عراقی انٹیلی جنس حکام کا کہنا تھا کہ داعش کے سربراہ البغدادی مفلوج ہوچکا مگر اب بھی موثر ہے، حملے میں اس کی ریڑھ کی ہڈی بھی متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں وہ چل پھر نہیں سکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں