20

ماحولیاتی تبدیلیوں سے بھڑوں کی جسامت چھوٹی ہورہی ہے

شہد کی مکھیوں کی مانند دکھائی دینے والی بھڑوں اور تتیوں کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کی جسامت کم ہورہی ہے۔

ماہرین نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلوبل وارمنگ اور کرہِ ارض پر آب و ہوا میں تبدیلی ہی اس کی وجہ ہے۔ عالمی درجہ حرارت سے جانوروں کی غذاؤں میں بھی کمی ہورہی ہے۔

یہ تحقیق اسپین کی یونیورسٹی آف کاسیلا لا مانچا کے ماہرِ حشریات پروفیسر کارلو پولی ڈوری نے کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک طرح کی عام پائی جانے والی بھڑ (ویسپ) کی جسامت سکڑ رہی ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے بڑھتی ہوئی گرمی اور غذائی قلت بتائی ہے۔
ماہرین اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ بعض اقسام کی چڑیا اور ہرن بھی گرمی سے متاثر ہوکر کھانے سے محروم ہورہے ہیں اور ان کی جسامت گھٹ رہی ہے۔ لیکن کلائمٹ چینج کے کیڑے مکوڑوں پر اثرات کو اس سے قبل ناپا نہیں گیا تھا۔

اس کے لیے پروفیسر کارلو نے مِڈرڈ میں واقع نیشنل میوزیم آف نیچرل ہسٹری میں رکھے حشرات کے ایسے نمونوں کا بغورمطالعہ کیا ہے جن میں سے بعض 50 یا 100 سال قدیم تھے۔ اس کے بعد انہوں نے پرانے کیڑوں کا آج کے حشرات سے موازنہ شروع کیا۔ بعض جانور 1904 میں یہاں لائے گئے تھے۔

میوزیم میں موجود 200 کے قریب بھڑوں کا جائزہ لیا گیا جو درختوں پر پائی جاتی ہیں۔ اس بھڑ کا حیاتیاتی نام Dolichovespula sylvestris ہے۔ بعض بھڑیں دیگر مقامات سے تعلق رکھتی تھیں۔ ماہرین یہ جان کر حیران رہ گئے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھڑوں کی آبادی میں اوسط جسامت نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔

اس ضمن میں بھڑوں کے سر، جسم اور پروں کا جائزہ بھی لیا گیا۔ اگرچہ بھڑوں کے چھوٹے ہوتے ہوئے وجود کی حتمی وجہ اب بھی معلوم نہیں ہوسکی ہے لیکن کارلو کا خیال ہے کہ شاید اس کی وجہ گلوبل وارمنگ ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب کچھ ماہرین نے کہا ہے کہ بھنورے اور دیگر کیڑے مکوڑے بھی چھوٹے ہوتے جارہے ہیں۔ اس کی وجہ ان کے مسکن میں گرمی بڑھ رہی ہے اور غذا تک رسائی کا نظام کمزور ہورہا ہے۔ دوسری جانب بھڑوں کے پر ان کی جسامت کے لحاظ سے بہت تیزی سے چھوٹے ہورہے ہیں۔ اس سے ان کی اڑان پر اثر پڑے گا اور اس طرح شکار کرنے میں بھی مشکل پیش آسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں