60

کھارے پانی کو میٹھا بنانے والا لکڑی سے بنا فلٹر

دنیا بھر میں سمندری پانی کو قابلِ نوش بنانے کے لیے طرح طرح کی ایجادات کی جارہی ہیں۔ اس ضمن میں ایک سادہ حل لکڑی کی پرت کو بطور فلٹر استعمال کرنے کا سامنے آیا ہے۔

نیوجرسی میں واقع پرنسٹن یونیورسٹی کے ماہر جیسن رین نے کہا ہے کہ نمک والے پانی کی پینے کے قابل بنانے والے روایتی نظاموں میں توانائی، بڑا سسٹم اور خاص آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا حل ایک خاص طرح کی لکڑی ’امریکن بیس ووڈ‘ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

اس لکڑی کو امریکی ترنج بھی کہا جاتا ہے جس کے مسام نمک روک لیتے ہیں اور پانی کو گزرنے دیتے ہیں، اور اس طرح پانی کی کڑواہٹ ختم ہوجاتی ہے۔ اس لکڑی سے بنی جھلی سمندری پانی تک کو پینے کے قابل بناتی ہے۔

جھلی دار پانی کے فلٹر عام طور پر کسی پولیمر سے بنائے جاتے ہیں جن میں موجود باریک سوراخ پانی گزرنے دیتے ہیں اور نمکیات روک لیتے ہیں لیکن اس کےلیے بلند پریشر کا پمپ درکار ہوتا ہے جو ہر جگہ کارآمد نہیں ہوتا لیکن اب امریکن بیس ووڈ کی باریک چھال یا پرت یہ کام کرسکتی ہے۔

جیسن رین اور ان کے ساتھیوں نے لکڑی کا پتلا ٹکڑا کاٹا اور اسے ایک کیمیائی طریقے سے گزارا جس کے بعد اس کے سوراخ مزید کھل گئے اور پانی زیادہ پھسلنے لگا۔ پرت کا دوسرا حصہ گرم کیا گیا تاکہ دوسری جانب کا پانی بخارات بن کر اڑ جائے۔ اس طرح تازہ ٹھنڈا اور میٹھا پانی حاصل ہوتا ہے۔ سادہ نظام کی بدولت پر پانی کو بخارات بنانے کےلیے زیادہ حرارت کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ابتدائی طور پر ایک مربع میٹر چوڑی لکڑی کی چادر سے فی گھنٹہ 20 لیٹر پانی فلٹر کیا جاسکتا ہے۔ اسے بنانے والے سائنس دانوں نے کہا ہے کہ لکڑی سے بنے فلٹر کی موٹائی ایک مائیکرومیٹر ہے اور بقیہ پورا نظام اسی کے ساتھ جڑا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں