20

گرناڈا کے علاوہ امریکا نے 70برس میں‌ کوئی جنگ نہیں‌ جیتی، جواد ظریف

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ امریکا کو افغانستان میں 18 سال بعد طالبان سے مذاکرات کرنا پڑے۔

تفصیلات کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکا ،ایران کشیدگی سے متعلق جاری بیان میں مؤقف اختیارکیا ہے کہ امریکا کو افغانستان میں سوائے رسوائی کے کچھ نہیں ملا، بالآخر اٹھارہ برس بعد طالبان سے مذاکرات کرنے پڑے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی اقدامات پر ردعمل کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں امریکی موجودگی کا نتیجہ داعش کی صورت میں نکلا، شام میں امریکی موجودگی سے بھی رسوائی ملی، 290 افراد کو ایران ایئربس حملے میں مارا گیا، گرناڈا کے علاوہ امریکا نے 70 برس میں کوئی جنگ نہیں جیتی۔

جواد ظریف نے کہا کہ اب بھی امریکہ کو ناکامی کا سامنا ہوگا، امریکی عوام سے ہمارا کوئی جھگڑا نہیں، ٹیکساس واقعہ پر ہمیں افسوس ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی عوام لوگوں کو ستانے، تشدد کے کلچر کا نشانہ بنے ہیں، امریکی عوام اس کلچر کا نشانہ بنے کہ میز پر بات جنگ کی ہوگی،جنگ کا کلچر نہیں چل سکتا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ یاد رکھیں کہ ایرانیوں نے کسی بھی جنگ میں کامیابی حاصل نہیں کی اور کسی بھی مذاکرات میں ناکام بھی نہیں ہوئے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ جن خیالات کا اظہار ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں کیا تھا امریکی قومی سلامتی کے مشیرجان بولٹن نے دو سال قبل اسی طرح کے خیالات کا اظہار اپنے ایک آرٹیکل میں کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں