16

تمام صوبوں میں پانی کی یکساں فراہمی کی جارہی ہے، ترجمان ارسا

اسلام آباد : ترجمان ارسا کا کہنا ہے کہ ملک کے کسی بھی صوبے کے ساتھ پانی کی فراہمی میں امتیاز نہیں برتا جا رہا، سندھ اور پنجاب کو پانی کی یکساں قلت کا سامنا ہے۔

اپنے جاری بیان میں ترجمان ارسا کا کہنا ہے کہ کسی صوبے کے ساتھ پانی کی فراہمی میں امتیاز نہیں برتا جارہا، صوبہ سندھ اور پنجاب کو پانی کی 18 فیصد قلت کا سامنا ہے۔

ترجمان ارسا کے مطابق27اپریل سے5 مئی تک تربیلا ڈیم اور چشمہ بیراج ڈیڈ لیول پر تھے،6مئی کے بعد سے آبی صورتحال میں بہتری آنا شروع ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ سندھ کی درخواست پر چشمہ سے اخراج 5000 کیوسک بڑھا دیا گیا، چشمہ سے سندھ کو66000کے بجائے 71000کیوسک پانی مل رہا ہے۔

علاوہ ازیں وزیر آبپاشی پنجاب محسن لغاری نے کہا کہ اس وقت سندھ کو صرف چار فیصد جبکہ پنجاب کو16فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے ، میرے اپنے علاقے میں بھی پانی کی کمی ہے۔

وزیر آبپاشی پنجاب کا کہنا ہے کہ سندھ والے اپنے پانی کی رپورٹنگ درست نہیں کرتے ،سندھ والے بھائی بارشوں کے پانی کو بھی رپورٹ نہیں کرتے، اسی پانی کو مینج کرنا ہے اس کی فیکٹری نہیں لگائی جاسکتی۔

محسن لغاری نے کہا کہ سندھ اور پنجاب میں پانی کی برابر تقسیم ہونی چاہئے، جہلم اور چناب میں پانی کی کمی رپورٹ ہوئی ہے، آج پانی کی کمی ہے کسی کا حصہ نہیں ما ر رہے ، ہمارا ارسا سے مطالبہ ہے کہ ہمیں ہمارے حصہ کا مکمل پانی دیا جائے۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی کے رہنماء سہیل انور سیال کا کہنا ہے کہ ارسا حکام کسی صوبے کو پانی سےمحروم نہیں رکھ سکتے، ارسا کا دعویٰ غلط ہے سندھ کو 71ہزار کیوسک پانی مل رہاہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کو تقریباً 28 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے، ارسا کا دعویٰ غلط ہےپانی تقسیم معاہدے1991 کےتحت ہورہی ہے، سندھ اپنے اعداد و شمار سب سے شیئرکرتا ہے۔ پیپلزپارٹی ملک میں پانی کی منصفانہ تقسیم کی خواہاں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں