22

شدید صدمے میں مبتلا فلسطینی بچی کی ویڈیو نے دل دہلا دئیے

غزہ : صیہونی فورسز کی شدید بمباری میں زخمی ہونے والی 7 سالہ فلسطینی بچی شدید صدمے میں مبتلا ہوگئی۔

مقبوضہ فلسطین پر غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی بمباری سے ہر طرف کشت و خوں کا بازار گرم ہے، جس کے باعث بچے خوف اور دہشت کے عالم میں جینے پر مجبور ہیں۔

اسرائیلی حملوں کی زد میں آنے والے فلسطینی شہری صرف مالی یا جسمانی طور پر متاثر نہیں ہورہے بلکہ انہیں ذہنی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

صیہونی فورسز کی جانب سے اتوار کے روز رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 10 بچوں سمیت تین خاندانوں کے 42 افراد شہید ہوئے تھے۔

متاثرین میں ریاض اشکونٹانا بھی شامل ہیں جو 7 سالہ بیٹی سمیت منہدم عمارت کے ملبے سے کئی گھنٹوں بعد زندہ نکل آئے لیکن ان کی اہلیہ اور چار بچے شہید ہوگئے۔

ماہر امراض اطفال کے ڈاکٹر زہیر الجارو نے کہا کہ اگرچہ ملبے کے نیچے سات گھنٹوں تک رہنے کے دوران شوزی پر جسمانی دباؤ کم تھا، لیکن یہ کمسن بچی “شدید صدمے اور اذیت کی زد میں تھی جو اسپتال میں موجود افراد کو دیکھتی رہتی ہیں لیکن کسی سے آنکھیں نہیں ملاپاتی۔

الجارو نے کہا کہ بچی نے صرف منگل کے روز تھوڑا سا کھانا کھایا اور جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ بڑی ہو کر کیا بننا چاہتی ہے تو وہ پیچھے مڑ گئی اور سسکیاں لیکر رونے لگی۔

غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے جنگی طیاروں نے اتوار کے روز غزہ کی الوحدہ اسٹریٹ کو نشانہ بنایا تھا، جو شہر کے سب سے مصروف تجارتی راستوں میں سے ایک ہے۔

میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گلی اپارٹمنٹس کی عمارتوں کے ساتھ دکانوں، بیکریوں، کیفوں اور زمینی منزل پر الیکٹرانکس کی دکانوں پر مشتمل ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی فلسطینی بچوں کی ایسی درد ناک ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں ہیں جس میں کم عمر بچوں کو شدید صدمے میں مبتلا دیکھا جاسکتا ہے۔

اسرائیل نے 10 مئی سے فلسطینیوں پر اندھا دھند بمباری کا آغاز کیا تھا جس کی زد میں آکر اب تک 219 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں 63 بچے بھی شامل ہیں جب کہ حماس کے راکٹ حملوں میں اب تک 12 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں